zindagi naw ki karamat chahta hu | زندگی نو کی کرامت چاہتا ہوں

غزل

زندگی نو کی کرامت چاہتا ہوں

میں ایسی شخصیت کی عیادت چاہتا ہوں

فتنہ تفریق پہ شب خون مارو 

روشنی پھوٹے ایسی عبارت چاہتا ہوں  

نظر میں خاک ،مال و زر سب

ڈھونڈو ایسا بزرگ زیارت چاہتا ہوں

بغض و حسد،غیبت سے ہو پاک  

میں ایسی نماز ، ایسی عبادت چاہتا ہوں       

نفرتوں کے ماحول کو کچل کر رکھ دے

پلک پہ بٹھاؤ ایسی قیادت چاہتا ہوں

منتشر انسانیت کے سمندر کو  

ایک کوزہ میں لپیٹے ایسی نظامت چاہتا ہوں

کر لی توبہ مانگ لی معافی

سر خم ہے ندامت چاہتا ہوں

سنگ دل کی آنکھیں بھی ہو جائیں نم    

تحریروں میں ایسی فصاحت چاہتا ہوں   

علم کے گہوارہ سمندر سےمیں شاہد

مخاطب ہونے کی جسارت چاہتا ہوں

Facebook Comments

One Comment on “zindagi naw ki karamat chahta hu | زندگی نو کی کرامت چاہتا ہوں”

Leave a Reply

Your email address will not be published.