Maana ke yahan log qadardaan bahot hai by Md Nematullah

مانا کہ یہاں لوگ قدر دان بہت ہیں
ہم تیرے ستم دیکھ کے حیران بہت ہیں

یہ سچ ہے کہاں باغ میں محفوظ ہیں کلیاں
تُف! آج ہر اک شہر میں حیوان بہت ہیں

آنکھوں سے ٹپکتے رہے اشکوں کے ستارے
خاموش نگاہوں میں بھی ارمان بہت ہیں

ہم چل پڑے ہیں اب تو محبّت کی ڈگر پر
سب راہیں مگر عشق کی سنسان بہت ہیں

مشکل سے دکھانے تجھے لائے ہیں یہاں پر
“شیشے کے مکانات میں گلدان بہت ہیں“

ہندی سے محبّت ہے تو اُردُو سے گلہ ہے
کچھ تنگ نظر ایسے بھی انسان بہت ہیں

انجان بھٹکتے ہیں اسی راہ میں نعمتؔ
جس راہ میں لٹنے کے بھی امکان بہت ہیں

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.