عشق مجازی سے حقیقی کا سفر

عشق مجازی سے حقیقی کا سفر اتنا آسان تو نہیں کہ کوئی عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر طے کرلے، بیچ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے عقل کی سرحد جب تک انسان سرحد عبور نہ کرلے کسی منزل تک نہں پہنچ سکتا اور یہ تو منزلِ مقصود ہے عشق انسان کو کائنا ت کے کسی دوسرے حصے میں لے جاتا ہے، زمین پر رہنے نہیں دیتا اور لاحاصل عشق رہتا ہے۔


لوگ کہتے ہیں انسان عشق مجازی سے عشق حقیقی تک سفر کرتا ہے جب تک عشق لاحاصل رہتا ہے جب انسان جھولی بھر بھر محبت کرے اور خالی ہاتھ لے کر پھرے، محبت اور عزت نفس کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ محبت سب سے پہلے عزت نفس کو ختم کردیتی ہے یا بندہ محبت کرلے یا پھر اپنی عزت نفس بچالے ہاتھ کی مٹھی میں دونوں چیزیں اکٹھی نہیں آسکتیں، عشق کرنے والے پہلے اپنے نفس کو پامال کرتے ہیں تب جاکے کہیں عشق کا دروازہ کھلتا ہے

Facebook Comments