عشق اور آزادی

پوری دنیا میں ہندوستان کی شناخت دو وجہ سے ہے ، عشق اور آزادی اور ان دونوں کی علامت ہے تاج محل اور لال قلعہ ۔ اجداد کے ذریعہ تحفہ میں ملی اس وراثت پر ہر ہندوستانی کو نہ صرف فخر ہے بلکہ غرور ہے۔

وراثت کو محفوظ رکھنا زندہ قوم کی پہچان ہے اور جو لوگ اپنی وراثت کی حفاظت نہیں کر سکتے ، وہ نہ صرف بزدل ہوتے ہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے دشمن ہوتے ہیں۔ آج جب لال قلعہ کو گروی رکھ دیا گیا تو مجھے ایک شاعر کا شعر یاد آیا کہ

سونپو گے اپنے بعد وراثت میں کیا مجھے

بچے کا یہ سوال ہے گونگے سماج سے

جب یوگی نے محبت کے حسین تجسیمی تصور تاج محل کی دیکھ ریکھ کے لیے یوپی اسمبلی سے فنڈ دینے سے انکار کر دیا تھا تبھی لگا تھا کہ ان نفرت کے سوداگروں کے ذہن میں مسلم حکمرانوں کی یادیں ٹیس بن کرکچوکے مار رہی ہیں اور وہ ان تمام وراثتوں کو برباد کرنے یا بدنام کرنے کے درپے ہیں۔ جن کو بنانا تو دور ،تصور میں لانا بھی دشوار ہے۔ دہلی میں موجود اورنگ زیب روڈ کے نام کو تبدیل کرنا ان کے نفرت کی پہلی چوب تھی۔ اس کے بعد تاج محل پر ایسے ایسے بیانات آئے کہ نفرت کا ایجنڈا تو جگ ظاہر ہوہی گیا، جاہلیت کی دنیا کو بھی اپنے تعلیم یافتہ ہونے کا گمان ہونے لگا ۔

دراصل سرکار نے جہاں بولنے کی آزادی ، کھانے کی آزادی ، لکھنے کی آزادی تک پر پاندی عائد کی ہے وہاں آزادی کی نشانی کو کہاں برداشت کرنے والی ہے۔

مغلوں نے ، جسے یہ لوگ باہری لٹیرا کہہ کہہ کر مطمئن ہوتے ہیں ،اس ملک کے رخسار سنوارنے میں جس دریا دلی اور فراخدلی کا مظاہرہ کیا ، آج کے سیاسی لٹیرے ان کی سوچ اور ان کی رواداری کو نہ صرف زخمی کر رہے ہیں بلکہ بھارت کی خوبصورتی اور اس کے وراثت کا مذاق بھی اڑا رہے ہیں۔ لال قلعہ کو گروی رکھنا، اسی بات کا ثبوت ہے کہ آج کی سیاست کو اس جاہ جلال اور وقار کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے ، جس کی گواہی لال قلعہ کی دیواروں کی اینٹ اینٹ چیخ چیخ کر دے رہی ہے۔

لال قلعہ صرف اینٹ اور گارے کا بنا ہوا تعمیری شاہکار ہی نہیں بلکہ ہندوستانی فخر اور وقار کی علامت اور جاہ و حشمت ، تہذیبی نیرنگی اور ثقافتی مضبوطی کی وراثت ہے۔ انگریزوں کی نفرت نے اس کا 80فیصد جسم نوچ لیا،باوجود اس کے جلال میں معذوریت نہیں آئی ، لیکن ثقافتی اور سماجی معذوریت والی سرکار نے اس شاندار وراثت کو محض 25کروڑ کا قیدی بنا دیا گیا۔ لال قلعہ جہاں سے انگریزوں کے خلاف آخری آزادی کی لڑائی لڑی گئی آج اسے سرکار کے ایک نمک خوار صنعت کار کے ہاتھوں گروی رکھ دیا گیا۔ کیا ہندوستانی سرکار کے پاس اتنا پیسہ بھی نہیں کہ وہ اپنی مجروح ہوتے وراثت کا نوک پلک درست کر سکے۔ کیا ہندوستان کا سارا پیسہ مغرور پردھان سیوک کے غیر ملکی دوروں اور مفرور غدار وطن تاجروں کے لیے مختص کر دئے گئے ہیں ۔

کس منہ سے وہاں ترنگا لہرا یا جا سکتا ہے ، کیا ترنگا لہرانے کے لیے اب ڈالمیا سے اجازت لینی پڑے گی ، کیا آزادی کی علامت ترنگا اس درد کو نہیں محسوس کرے گا کہ وہ ایک کرایہ کی عمارت پر ادھار کی آزادی بکھیر رہا ہے۔

تم مسلمانوں کے نہ ہوئے ، نہ ہوئے ، دیش کے تو ہوتے ، ترنگا کے تو ہوتے ، مسلمانوں نے تمہیں کیا نہیں دیا ، خود کے لیے کچھ مانگا بھی نہیں کہ وہ جس حال میں بھی رہتا ہے خدا کا شکر ادا کرتا ہے ، چاہے غموں کا پہاڑ ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے ، اس کا استقلال نہیں ٹوٹتا ۔

غموں کی جاگیر ہمیں وراثت میں ملی ہے

اپنی جاگیر میں جیتے ہیں نوابوں کی طرح

تم تو اس کی جاگیر کو بھی سنبھالنے لائق نہیں ہو۔ کچھ بنا نہیں سکتے تو کم از بگاڑو تو نہیں۔

زین شمسی

Facebook Comments